Uyanis Buyuk Selcuklu

سلجوق سلطانوں کا دولتِ سلجوقیہ سے انس

سلجوق سلطانوں کا دولتِ – نظام عالم

سلجوق سلطانوں کا دولتِ کا دولتِ الپ ارسلان جس نے ترکوں کے لئے اناطولیہ کے دروازے کھولے، کی وفات کے بعد سلطان ملک شاہ تخت نشین ہوا۔ سلطنت کی گدی سنبھالتے ہی اپنے محبوب ہم سفر کی جدائی کی خبر ملی۔ اس مشکل گھڑی میں اپنے نومولود لخت جگر کو فقط اپنے بابا کی امانت اور امت کی امید سلطنت کے لئے خود سے جدا کردیا۔ کسی طرح کی دوبارہ ملنے کی امید کے بغیر بچہ خواجہ نظام المک کو سونپ دیا گیا

بازنطینی

سنچار کو ہر دم ریاست کے ساتھ وفاداری اور خدمت کے اصول کے ساتھ پروان چڑھایا گیا۔ بطور سپاہی اپنی خداداد صلاحیتوں سے ملک شاہ کے سلجوق سلطانوں کا دولتِ انتہائی بھروسہ مند لوگوں میں شامل ہوگیا۔ ایسے کئی جانبازوں کی تربیت کرنے والا خواجہ نظام المک اپنی سلطنت کی. ہر طرح سے خدمت کے لئے ہر دم تیار تو وہیں. حسن بن صباح جیسے کئی باطنی سانپ فاطمی سلطنت کی بحالی کے لئے. بازنطینی اور باقی مسلم دشمن حلیفوں کی مدد سے امت مسلمہ کو ڈسنے کے لئے تیار

ایمان، امید اور محبت سے جڑی جدوجہد اور راز کی ایک لازوال داستان

سلجوقیوں کا عروج دیکھنے کے بعد مجھے ایک طرف قربانی اور اپنے حق سے دستبرداری کا سبق سمجھ آیا ھے .تو دوسری طرف اپنی ذمہ داریوں کو پہچاننا اور نبھانے کا سبق ملا ھے۔ اس ڈرامے میں جس طرح ملک شاہ نے اپنے ریاست کے بچاؤ کے لئے اپنے خاندان کو پیٹھ پیچھ چھوڑ دیا. وہیں پر اس نے اپنی ریاست کی ذمہ داری کو بخوبی نبھایا بھی ہے۔ایک طرف وہ حسن بن صباح جیسے غداروں سے برسرپیکار ہے. تو دوسری طرف امام غزالی اور نظام الملک جیسے لوگوں کا قدرداں بھی ھے۔ اپنے مذہب اپنے نظرئیے اور شعار کو اپنی .آنے والے نسلوں تک پہنچانے کے لئے اپنے نسل کی قربانی دی ھے

امام غزالی

۔ وہ جانتا ھے کہ ان رشتوں اور چند سالوں کے ساتھ کو زوال ھے اور مجھ پر ابد کی ذمداری ھے۔ وھی ذمداری جو رسول خدا نے صحابہ کو سونپی کہ میرے پیغام کو دنیا کے آخری کونے تک پہنچانا. تمہاری ذمے ھے اور آج ان صحابہ کی قبریں مختلف ممالک میں ھونا اس بات کے شاھد ھے۔ ملک شاہ نے بھی اسی روایت کو نبھایا ھے۔ اس ڈرامے میں دیکھایا گیا ھے کہ ایک کامیاب ریاست صرف بادشاہ سے نہیں چلتی. اسکے لئے جہاں نظام الملک جیسا وزیر ضروری ھے. وہیں ذہن سازی کے لئے امام غزالی جیسا رہبر اور حفاظت کے لئے سنچار جیسا مرد مجاھد بھی عین لازم ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button