Kurulus Osman

بامسی بیرک ارتغرل کا قریبی دوست

بامسی بیرک معصومیت اور بہادری کا حسین امتزاج

“بامسی بیرک ارتغل” اور “کرولوس عثمان ” میں ارتغل اور ترگت کے برابر شہرت نصیب پانے والے بامسی بیریک جہاں ایک طرف بامسے کے سکرین پر نظر آتے ہی یہ یقین ھو جاتا تھا کہ اب دشمنوں کی خیر نہیں وہیں ناظرین کے دل اس کی معصوم حرکتوں پر کھل اٹھتے تھے۔اپنے دونوں ھاتھوں میں دو تلواریں تھام کر بےباکی سے دشمنوں کے سر قلم کرنے والا اور نہائت جارحانہ انداز میں لڑنے والا اپنی بہت سی بے وقوفی کی حد تک معصوم حرکتوں سے ناظرین کے دل بھی موہ لیتا تھا۔

بامسی بییرک جسے بی بائرک ، بامسے الپ ، بی بیرے ، بیئریگ

، بے بیریک اور باؤ بیرک بھی کہا جاتا ہے جسے ترک ڈرامہ دیریلس ارتغل اور اسی کی سیکوئل میں بننے والے ڈرامے. “کورولس عثمان” میں ارتغل کے ایک بہادر’وفادار’ جانباز جنگجو کے طور پر دکھایا گیا ھے۔جہاں تک بامسی بیبرک کے کردار کا تعلق ھے ناظرین جتنی محبت ارتغل ‘ عثمان یا ترگت سے کرتے ہیں. اتنا ھی وہ بامسے کی محبت میں بھی مبتلاء ہیں۔دشمنوں پر آندھی اور طوفان بن کر ٹوٹنے والے بامسی بے کے نام سے ہی. دشمنوں کے چھکے چھوٹ جایا کرتے تھے۔بامسی نے ارتغل اور عثمان کے ساتھ بہت سی جنگوں میں حصہ لیا .اور بہت سی فتوحات کے حصول میں نہائت موثر کردار ادا کیا۔خاص طور پر صلیبیوں کی سازشوں میں انتہائی جی داری اور بہادری سے مقابلہ کرنے. اور صلیبیوں کے چھکے چھڑانے میں بہت بھرپور کردار ادا کیا۔

36کرولوس عثمان” کی قسط

بامسی بیرک نے حال ہی میں ریلیز ھونے والے ڈرامہ ” کرولوس عثمان” کی قسط 36 میں 10 جنگجووں کے گروہ کے ساتھ. جسطرح قلعہ چائیسار میں در اندزای کی اور بھرپور حملہ کیا ایسے بہادری کے جوہر کم ہی دیکھنے میں آتے ہیں۔ساری زندگی بامسی بیریک نے اپنی تلوار اور ڈھال کے ساتھ ارتغل اور عثمان کا انتہائی دلیری کے ساتھ ساتھ دیا۔

خاص طور ڈرامہ دیریلس ارتغل اور کورولوس عثمان میں جس اداکار نے بامسی بیریک کا کردار ادا کیا وہ ترکی کے مشہور اداکار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیں۔اپنے پورے کرئیر میں ۔۔۔۔۔نے بہت سے فلموں اور ڈراموں میں مختلف کردار ادا کئیے. لیکن جتنی جاندار اداکاری انہوں نے ان دونوں ڈراموں میں کی. اس نے انہیں راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔خاص طور پر ان کا غراتے ھوئے لہجے میں ڈائلاگ بولنے کا انداز ۔میرا دعوی ھے کہ دنیا کا بڑے سے بڑا اداکار بھی اس طرح کی ایکٹنگ نہیں کرسکتا۔

بامسی بیرک کے والد

بامسی بیرک کے والد بےبوراج بےایک ملک کے بادشاہ تھے اور بہت بہادر جنگجو تھے۔اس کے ساتھ ہی ساتھ اپنے لوگوں کے لئے. وہ انتہائی نرم دل رکھنے والے ھمدرد’مدد گار اور نیک دل انسان تھے۔ لیکن ایک چیز جو انہیں اکثر دکھی اور اداس کر دیتی تھی کہ وہ بے اولاد تھے۔کتاب” ڈیڈ کورکوت ” میں بتایا گیا ھے کہ ایک مرتبہ تمام اوغوز شہزادے ملک. روم میں ایولک کے قلعہ کے پاس بیٹھے ھوئے تھے. سب نے اپکے والد بیبوراج بے کے لئے مل کر دعا کی. کہ اللہ انہیں انہی کی طرح کا ایک نڈر اور بہادر فرزند عطا کرے۔اسی جگہ ایک دوسرا اوغوز شہزادہ بے بیچل بھی بیٹھا تھا وہ بھی بے اولاد تھا۔سب کی دعا کے نتیجہ میں اللہ تعالی نے بےبیراج بےکو بیٹا. جس کا نام انہوں نے بامسی بیبیریک اور بے بیچل کو بیٹی عطا کی .جس کا نام بانو رکھا گیا

بیبریک کی شادی

۔بعد ازاں بیبریک کی شادی بے بیچل کی بیٹی بانو کے ساتھ ھوئی. لیکن شادی کی رات ہی ان کے دشمن قبیلہ جن کا تعلق روم کے عیسائیوں سے تھا . ان پر حملہ کردیا اور بامسی کو قیدی بنا کر لے گئے۔جہاں 15 سال تک بامسی قیدی کی حیثیت سے ان کے ظلم و ستم کا نشانہ بنتا رھا ۔اور آخر کار 15 سال کے بعد رومی عیسائی شہزادی ھیلینا نے.

محبت میں گرفتار

اس کی محبت میں گرفتار ھو کر اسے قید سے فرار ھونے میں مدد کی. اور خود بھی اس کے ساتھ فرار ھو گئی. اور دونوں نے شادی کر لی۔بامسی کے بارے کہا جاتا ھے کہ وہ تمام اوغوز بزرگوں کے چار خوبصورت مردوں میں سے ایک تھا. لیکن وہ کافی جذباتی تھا اور اس نے کبھی کبھی غیر معقول اقدام بھی کیے۔ اس کے گھوڑے کا نام ڈینگیبوز یا بینجیبوز تھا اور یہ سیاہ یا سرمئی رنگ کا تھا۔

ایک مضحکہ خیز کردار

“دیریلیس ارتغل” اور ” کرولوس عثمان ” میں بامس بیئرک خاص طور پر اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ ایک بہت ہی پیار کرنے والا شخص بتایا گیا ھے ،بامسی بیرک نے اپنی بیوی کی وفات کے بعد سے دن گننا اور کسی بھی چیز کو یاد رکھنا چھوڑ دیا تھا۔ اس نے اپنے لے پالک بیٹے سدوک کے ساتھ بھی اتنی ہی محبت کا سلوک کیا جتنا اس نے اپنے بیٹے ایبارس کے ساتھ کیا تھا۔ وہ تقریبا ہر وقت بہت خوش رہتا تھا ، فطرتا” وہ ایک مضحکہ خیز کردار رکھتا تھا۔اکثر ڈرامے میں اس کے دوست اسے محبت اور مذاق سے اور اس کی بے پناہ طاقت اور بہادری کی وجہ سے پہاڑی ریچھ بھی کہا کرتے تھے۔

اوغوزجانبازوں کی بہت قدیم تاریخ

گو کہ یہ ترکی کے اوغوزجانبازوں کی بہت قدیم تاریخ کا ایک تصوراتی کردار تھا اور انکا ارتغل ‘ ترگت ‘ عثمان یا ان کے ساتھیوں سے کبھی بھی آمنا سامنا نہ ھوا. لیکن اس کا مزار انا طولیہ میں موجود ھے۔جو ڈرامہ ریلیز ھونے سے پہلے اتنی بہتر حالت میں نہ تھا۔لیکن جیسے ھی مہمت بزداگ نے ترکی کے اوغوز کے کارناموں کوزندہ جاوید رکھنے کے لئے. اور اپنے بہادر جانباز کو خراج عقیدت پیش کرنے کےلئےاسے ڈرامہ کا حصہ بنایا ۔لوگوں نے ان کے مزار پر جا کر فاتحہ خوانی شروع کی تو ترکی حکومت نےمزار سے ملحقہ زمین پر مزار کی توسیع کردی۔بامسے کے چاھنے والے بڑی عقیدت و احترام اور محبت سے ان کے مزار پر جاتے ہیں۔ اللہ ان پر اپنی رحمتیں نازل کرے اور ان کے درجات بلند کرے۔آمین
واللہ عالم بالثواب
نازنین_مقیت#

Related Articles

Back to top button